ميرا سوال طلاق ميں وسوسہ كے متعلق ہے: ميرا ايك لڑكى سے عقد نكاح ہوا ہے اور ميں اس سے بہت محبت كرتا ہوں عقد نكاح كے ايك روز بعد شطيان نے نماز ميں مجھے طلاق كا وسوسہ ڈالا كام پر ہوؤں يا گھر ميں يا بيت الخلا ميں يا....
ايك شادى شدہ نوجوان آدمى جو جنون جيسے مرض كا شكار ہونے كى بنا پر ہر وقت پريشان سا رہتا ہے، اور كمزور حافظہ كى بنا پر وسوسے كا بہت زيادہ شكار ہے, وہ اپنے اس خاندان والوں كے ساتھ ہى رہائش پذير ہے جو نجوميوں اور بدفالي پر ايمان....
ميں تعليم يافتہ شخص ہوں اور ميرى بيوى بچے بھى ہيں ليكن بيوى كے ساتھ ميرے ہميشہ ہى اختلافات رہتے ہيں، ميں نے بارہا اس كے ساتھ مشكل كو حل كرنے كى كوشش كى ہے ليكن كوئى فائدہ نہيں ہوا، نہ تو وہ طلاق لينے پر راضى ہے اور نہ....
ميں نے سوال نمبر ( 2803 ) كے جواب ميں پڑھا جس ميں آپ نے سوال كرنے والى كو اپنى شادى كے اعلان كى نصيحت كى ہے كيونكہ يہى سنت ہے جيسا كہ ميں نے ايك دوسرے سوال ميں پڑھا ہے كہ كئى ايك اسباب كى بنا پر والدين نے....
میں تیس برس کی عمرکا جوان ہوں اورشادی سے قبل دین کا التزام نہیں کرتا تھا ، الحمد للہ اب اللہ تعالی نے مجھ پرھدایت کا انعام کیا ہے میں دین کا التزام کرنے لگا ہوں ، میں نے ایک ایسی لڑکی سے شادی کی جوکہ اسلامک سٹڈی کر چکی....
میں ایک مسلمان عورت ہوں اوراپنے سارے افعال میں اللہ تعالی کا خوف رکھتی ہوں ، الحمد للہ میں نے ایک مثالی شخص سے شادی کی جوکہ اپنے سب معاملات میں اپنی مثال آپ ہے ، معاملات میں بھی بہت اچھا ہے ، ہمارے تعلقات بہت ہی اچھے جارہے تھے....
برائے مہربانى آپ درج ذيل مسئلہ ميں شريعت اسلاميہ كے مطابق راہنمائى فرمائيں: اگر دوسرى بيوى كاغذات ميں جعل سازى كر كے اپنے خاوند كے خلاف مہر اور اخراجات كا مسئلہ كھڑا كرے .. اور اس كى غيرموجودگى ميں بداخلاقى كرتى ہو اور وہ اپنى والدہ كے ساتھ رہ رہى....
مجھے دو بار طلاق ہو چكى ہے: پہلى بار اس ليے طلاق ہوئى كہ ميں نے خاوند سے مطالبہ كيا تھا كہ وہ ميرے اور بچوں كے ليے مہينہ ميں ايك دن مقرر كر دے جس ميں وہ ہمارے ساتھ بيٹھے اور وہاں اپنے گھر والوں كى ياد نہ كرے.....
ميں شادى شدہ ہوں اور ميرے تين بچے بھى ہيں، ميرا خاوند ميرے ساتھ حسن سلوك بھى كرتا اور ميرا بہت خيال كرتا ہے، ليكن ميں خاوند كے ايك رشتہ دار مرد كى طرف كھنچتى چلى جا رہى ہوں، مذكورہ شخص مجھ سے دس برس چھوٹا ہے، مجھے علم ہے....
كيا والد كے ليے ممكن ہے كہ وہ بيٹى كو مرد و زن سے مخلوط جگہ ميں كام كرنے پر مجبور كرے ؟
ميرى دو برس قبل شادى ہوئى الحمد للہ ميرا خاوند ميرے معاملہ ميں اللہ سے ڈرتا ہے، ليكن ميں اپنے اندر نفسياتى طور پر ركاوٹ سى محسوس كرتى ہوں كيونكہ ميرے والد نے ميرے اور ميرے بھائيوں اور والدہ كے ساتھ اچھا سلوك نہيں كيا جس كى بنا پر ميرے....
ميں شادى شدہ ہوں اور ميرے تين بچے بھى ہيں، ميرا خاوند ہميشہ دعوى كرتا ہے كہ ميں اس كى اطاعت نہيں كرتى اور جھگڑا رہتا ہے، بعض اوقات تو جھگڑے كے آخر ميں ايسے الفاظ نكال ديتى ہوں جو متقى لوگوں كى زبان سے صادر نہيں ہوتے، اور اسى....

API
